حیدرآباد،25؍اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دو بار کے اسقاط حمل کے بعد مایوس ہوچکی ایک خاتون نے ایک سرکاری اسپتال میں ایک نوزائیدہ بچے کو چرا لیا۔عورت کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ڈپٹی کمشنر (مرکزی علاقے) یول ڈیوس نے بتایا کہ دیر رات گرفتار کیا گیا ملزم عورت کی شناخت منجولاکے طور پر ہوئی ہے۔جس بچے کو اس نے چرایا تھا، اس کی پہلے ہی بیمار ہونے کی وجہ سے موت ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ ملزم عورت بنیادی طور پر وارنگل ضلع کی رہنے والی ہے۔وہ ہفتہ کو اس امید میں نیلوفر اسپتال آئی تھی کہ وہاں اسے کسی کا بچہ مل جائے گا۔ پولیس نے دیر رات نامہ نگاروں کو بتایا کہ اتوار کو بچے کی دادی اس کا علاج کرانے کے لئے اسپتال لائی تھی۔ منجولانے علاج کے دوران بزرگ عورت کی مدد کا بہانہ بنا کر دھوکہ دیا اور مبینہ طور پر بچے کو چرا لیا۔ اس کے بعد وہ تلنگانہ کے ناگرکورنول ضلع چلی گئی۔ پولیس نے کہا کہ اغوا کا معاملہ درج کرکے عورت کا پتہ لگانے کے لئے 15 ٹیموں کی تشکیل کی گئی۔ ڈیوس نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں 100 سی سی ٹی وی کیمروں کو کھنگالنے کے بعد پولیس نے پایا کہ ملزم عورت پیٹلابرج علاقے میں گئی اور وہاں اپنے شوہر سے ملنے کے بعد وہ تمام اپنے آبائی گاؤں ناگرکورنول چلے گئے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس نے اپنے دوسرے اسقاط حمل کی بات اپنے شوہر اور سسرال والوں سے چھپا لی تھی اور ان سے کہا تھا کہ وہ حاملہ ہے اور اس کے لئے وہ تحقیقات کے بہانے حیدرآباد آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ پولیس ملزم کا پتہ لگانے میں کامیاب رہی اور کل تقریبا 10 بجے حیدرآباد سے اسے گرفتار کر لیا۔ اگرچہ بیماری کی وجہ سے بچے کی اتوار کو موت ہو گئی اور عورت اور اس کے گھر والوں نے اسے اگلے دن کھیتوں میں دفن کردیا۔